Mantu

سعادت حسن منٹو
معلومات شخصیت
پیدائش : 11 مئی , 1912 سامرالہ

وفات : جنوری 18، 1955 (عمر 42 سال)ہال روڈ، لاہور

وجۂ وفات : کثرت شراب نوشی سے جگر کی بیماری میں مبتلا ہوگئے تھے۔

مدفن: میانی صاحب قبرستان، لاہور

طرز وفات: طبعی موت

شہریت: برطانوی ہند

بھارت(11 فروری 1912–15 اگست)
پاکستان (15 اگست 1947–1948

زوجہ : صفیہ منٹو (–18 جنوری 1955)

عملی زندگی🔎

مادر علمی: جامعہ علی گڑھ
پیشہ : کہانی نویس
پیشہ ورانہ زبان : اردو
دور فعالیت : 1934-1955
کارہائے نمایاں: ٹوبہ ٹیک سنگھ، چغد، گنجے فرشتے، اوپر نیچے اور درمیان، ٹھنڈا گوشت۔
ا

عزازات🔎

نشان امتیاز (2013)

اردو ادب کے عظیم افسانہ نگار، خاکہ نگار

خاندانی پس منظر 🔎

سعادت حسن منٹو کے والد غلام حسن منٹو قوم اور ذات کے کشمیری امرتسر کے ایک محلے کوچہ وکیلاں میں ایک بڑے خاندان کے ساتھ رہتے تھے۔

پیدائش🔎

منٹو 11 مئی 1912کو موضع سمبرالہ، ضلع لدھیانہ میں پیدا ہو ئے۔ ان کے والد لدھیانہ کی کسی تحصیل میں تعینات تھے- دوست انہیں ٹامی کے نام سے پکارتے تھے۔ منٹو اپنے گھر میں ایک سہما ہوا بچہ تھا۔ جو سوتیلے بہن بھائیوں کی موجودگی اور والد کی سختی کی وجہ سے اپنا آپ ظاہر نہ کر سکتا تھا۔ ان کی والدہ ان کی طرف دار تھیں۔ وہ ابتدا ہی سے اسکول کی تعلیم کی طرف مائل نہیں تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم گھر میں ہوئی۔ 1921ء میں اسے ایم اے او مڈل اسکول میں چوتھی جماعت میں داخل کرایا گيا۔ ان کا تعلیمی کریئر حوصلہ افزا نہیں تھا۔ میٹرک کے امتحان میں تین مرتبہ فیل ہونے کے بعد انہوں نے 1931میں یہ امتحان پاس کیا تھا۔ جس کے بعد انہوں نے ہندو سبھا کالج میں ایف اے میں داخلہ لیا لیکن اسے چھوڑ کر، ایم او کالج میں سال دوم میں داخلہ لے لیا- انہوں نے انسانی نفسیات کو اپنا موضوع بنایا۔ پاکستان بننے کے بعد انہوں نے بہترین افسانے تخلیق کیے۔ جن میں ٹوبہ ٹیک سنگھ، کھول دو، ٹھنڈا گوشت، دھواں، بو شامل ہیں۔ ان کے کئی افسانوی مجموعے اور خاکے اور ڈرامے شائع ہو چکے ہیں۔ کثرتِ شراب نوشی کی وجہ سے 18 جنوری 1955ء ان کا انتقال ہوا۔

فن 🔎

سعادت حسن منٹو اردو کا واحد کبیر افسانہ نگار ہے جس کی تحریریں آج بھی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ وہ ایک صاحب اسلوب نثر نگار تھے جس کے افسانہ مضامین اور خاکے اردو ادب میں بے مثال حیثیت کے مالک ہیں۔ منٹو ایک معمار افسانہ نویس تھے جنہوں نے اردو افسانہ کو ایک نئی راہ دکھائی-افسانہ مجھے لکھتا ہے منٹو نے یہ بہت بڑی بات کہی تھی۔ منٹو کی زندگی بذات خود ناداری انسانی جدوجہد بیماری اور ناقدری کی ایک المیہ کہانی تھی جسے اردو افسانے نے لکھا۔ منٹو نے دیکھی پہچانی دنیا میں سے ایک ایسی دنیا دریافت کی جسے لوگ قابل اعتنا نہیں سمجھتے تھے یہ دنیا گمراہ لوگوں کی تھی۔ جو مروجہ اخلاقی نظام سے اپنی بنائی ہوئی دنیا کے اصولوں پر چلتے تھے ان میں اچھے لوگ بھی تھے اور برے بھی۔ یہ لوگ منٹو کا موضوع تھے اردو افسانے میں یہ ایک بہت بڑی موضوعاتی تبدیلی تھی جو معمار افسانہ نویس کی پہلی اینٹ تھی۔ اس کے افسانے محض واقعاتی نہیں ہیں ان کے بطن میں تیسری دنیا کے پس ماندہ معاشرے کے تضادات کی داستان موجود ہے۔

منٹو کی انانیت 🔎

سعادت حسن منٹو ایک حساس شخصیت کا مالک تھا۔ وہ کسی وجہ سے کسی کو نا پسندکرتا تو پھر خاطر میں نہیں لاتا تھا۔ اس کی انا اگر مجروح ہوتی تو آگے والے کی شامت ہی آ جاتی۔

منٹو کی سوانح حیات پر مبنی فلمیں 🔎

منٹو (2015ء فلم)، 2015ء کی پاکستانی اردو فلم
منٹو (2018ء فلم)، 2018ء کی بھارتی اردو/ہندی فلم

افسانوی مجموعے🔎

دھواں
منٹو کے افسانے
نمرود کی خدائی
برقعے
پھندے
شکاری عورتیں
سرکنڈوں کے پیچھے
گنجے فرشتے
بادشاہت کا خاتمہ
شیطان
اوپر نیچے درمیان میں
نیلی رگیں
کالی شلوار
بغیر اجازت
رتی ماشہ تولہ
یزید
ٹھنڈا گوشت
بڈھاکھوسٹ
آتش پارے
خالی بوتلیں خالی ڈبے
سیاہ حاشیے
گلاب کا پھول
چغد
لذت سنگ
تلخ ترش شیرریں
جنازے
بغیر اجازت

رسائل کے جن سے وابسطہ رہے 🔎

ماہنامہ ’’ نقوش ‘‘ لاہور مدیر: محمد طفیل ( شمارہ 49۔50) 1955ء
ماہنامہ ’’ افکار ‘‘ کراچی مدیر: صہبا لکھنوی مارچ اپریل 1955ء
ماہنامہ ’’ شاعر ‘‘ بمبئی مدیر :اعجاز صدیقی مارچ اپریل 1955ء
گل خنداں لاہور مدیر :عبد الرؤف شمارہ 6۔ جلد 6، 1955ء
ماہنامہ پگڈنڈی۔ امرتسر مدیران :باوا مہندر / امریک آنند اپریل مئی 1955ء
’’ نقش‘‘ کراچی مدیر : شاہد احمد دہلوی 1955ء
ماہنامہ ’’ ادبی ‘‘ دہلی مدیر: رحمن نیئر 1977ء
قافلہ۔ لاہور مدیر: سید قاسم محمود جنور ی ٗفروری 1980ء
شعور۔ 4 دہلی مدیر: بلراج منیرا۔ مارچ 1980ء
حرفِ جعفر۔ فیصل آباد مدیر : ڈاکٹر جعفر حسن مبارک جِلد نمبر10 شمارہ 4-5

3 thoughts on “Mantu”

  1. ماشاءاللہ۔۔۔۔بہت عمدہ معلوماتی پوسٹ جو ایک طالب علم کے لئے بیش قیمت تحفہ ہے ہم آپ انتظامیہ کے بے حد ممنون و متشکر ہیں کہ آپنے ایک ایسا پلیٹ فارم تیار کیا جو مفید ثابت ہورہے ہے
    فقط والسلام
    نصرت مہدی
    اسسٹنٹ پروفیسر
    ساحس ڈگری کالج نوگاواں سادات
    ضلع امروہہ

Leave a Reply to Nusrat Mehdi 1 Cancel Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

DMCA.com Protection Status
error: Content is protected !!