گلشن عشق

گلشن عشق(1657، 1068ھ)

گلشن عشق(1657، 1068ھ)
گلشن عشق نصرتیؔکی اولین تخلیق ہے۔یہ ایک عشقیہ مثنوی ہے۔
اس کا سن تصنیف 1657 ء(1068 ھ)ہے۔
گلشن عشق نصرتیؔ نے نبی عبدالصمد کی ترغیب کے بعد لکھی۔
گلشن عشق علی عادل شاہ ثانی کے حکومت کے ابتدائی دورمیں لکھی گئی۔
یہ ایک عشقیہ مثنوی ہے۔اصل قصہ منوہر اور مد مالتی کی داستان عشق ہے۔مثنوی میں ضمنی طور پر چمپا وتی اور چندر سین کی داستان بھی بیان کی گئی ہے۔
مثنوی کا قصہ کہا ں سے لیا گیا یہ کہنا دشوار ہے ہاں اس سے پہلے ایک فارسی قصہ ”منوہر اور مدلت“ (1059 ھ)ملتا ہے۔
ایک کتاب عاقل خاں رازی کی مثنوی ”مہر و ماہ“ ہے جو 1065 ھ کی تصنیف ہے۔ ممکن ہے نصرتی کے نظر سے عاقل کی مثنوی ”مہر ماہ“ گزری ہو۔(مولوی عبدالحق)
خلاصہ
کنک گیر شہر کا ایک راجا تھا اس کا نام بکرم تھا۔اس کے کوئی اولاد نہیں تھی۔راجا کی رانی بانجھ تھی اس لیے ایک فقیر نے بھیک لینے سے انکار کر دیا۔راجہ فقیر کی تلاش میں نکل پڑا۔بن میں پریوں کی مدد سے راجا کی فقیر سے ملاقات ہو گئی۔فقیر نے راجا کو ایک پھل دیاجس کو کھلانے سے رانی کو بیٹا پیدا ہوا۔راجہ بکرم نے بیٹے کا نام ’منوہر‘ رکھا۔نجومیوں نے چودہ سال گیارہ ماہ کے بعد خطرے سے دوچار ہونے کی پیشین گوئی کی اور آسمان نہ دیکھنے کی تلقین کی۔ایک دن نو پریوں نے منوہر کو سوتے ہوئے دیکھ لیا۔وہ اس کے حسن سے مرعوب ہوئیں اور اس کا جوڑاتلاش کرنے نکل پڑیں۔نویں پری نے بتایا کہ سات دریا پار ایک ملک ہے’مہارس نگر‘اس کا راجا دھرم راج ہے۔ اس کی بیٹی ’مدمالتی‘ہی اس کا جوڑا ہے۔اس بات کی تصدیق کے لیے پریاں منوہر کو سوتا ہوا مدمالتی کے پاس مہارس نگر اٹھا لے جاتی ہیں۔ منوہر اور مدمالتی ایک دوسرے کے عشق میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔اور پہلی ہی ملاقات میں اپنی انگوٹھیاں بدل لیتے ہیں اور باتیں کرتے ہوئے نیند کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ پریاں سوتے میں ہی راجکمار منوہر کو اس کے محل پہنچا دیتی ہیں۔صبح منوہر مدمالتی کو نہ پاکر حیران و پریشان ہوتا ہے۔غم میں کھانا پینا چھوڑ دیتاہے۔ایک قدیم دائی جو منوہر کی ماں کی طرح تھی راجہ بکرم کو اس واقعہ سے باخبر کرتی ہے۔راجکمار مع لشکر کے مدمالتی کی تلاش میں نکلتا ہے۔جہاز میں سوار ہو کر جب سمندر پار کرتا ہے تو جہاز اژدہے سے ٹکرا کرٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے۔راجکمار کا پورا لشکر ڈوب جاتا ہے۔منوہر اکیلا صحرائے آتشیں کے کنارے پہنچتا ہے۔وہاں اس کی ملاقات مدمالتی کی سہیلی کنچن نگر کے راجہ سورمل کی بیٹی چنپا وتی سے ہوتی ہے۔چنپا وتی ایک دیو کی قید میں ہے۔منوہر اسے دیو کی قید سے آزاد کراتاہے۔اور اسے کنچن نگر لے جاکر والدین سے ملواتا ہے۔اس احسان کے بدلے چمپاوتی منوہراور مدمالتی اپنے گھر میں ملاقات کرا تی ہے۔لیکن چمپا وتی کی ماں ”سریکا“اپنے منتر سے مدمالتی کو طوطی بنا دیتی ہے۔ مدمالتی طوطی بن کے برسوں جنگلو میں پھرتی ہے۔ پھر ایک راج کمار چندرسین کی نظر اس پر پڑتی ہے وہ اسے مہارس نگر لے کر آتا ہے۔ طوطی کا جادو اتار کر اسے انسانی شکل میں واپس لایا جاتا ہے۔مدمالتی کی یاد میں منوہر دیوانہ وار پھرتا رہتا ہے۔چندرسین اسے مہارس نگر واپس لاتا ہے۔منوہر اور مد مالتی کی شادی ہو جاتی ہے۔منوہر اور مدمالتی راج کمار چندرسین اور چمپا وتی کو ملانے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔آخر کار وہ کامیاب ہوتے ہیں اور ان دونوں کی بھی شادی ہو جاتی ہے۔
کردار
راجہ بکرم : کنگ گیر کا راجا اور منوہر کا باپ
منوہر : کنگ گیر کا را ج کمارہیرو اور مد مالتی کا عاشق
قدیم دائی : راج کمار منوہر کی دائی جو اس کی ماں کی طرح عزیز تھی
دھرم راج : مہارس نگر کا راجااور مد مالتی کا باپ
مدمالتی : ہیروئن،مہارس نگر کی راجکماری اور منوہر کی محبوبہ
سریکا : مدمالتی کی ماں
سورمل : کنچن نگر کا راجا
چنپاوتی : کنچن نگر کی راجکماری اور سورمل کی بیٹی
چندرسین : چنپا وتی کا عاشق

1 thought on “گلشن عشق”

  1. سرتاج جہاں

    بہت بہت شکریہ سر
    کئی چاند تھے سر آسمان پر بھی نوٹس محییا کرایں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

DMCA.com Protection Status
error: Content is protected !!