Back to: Urdu Notes  

رتن ناتھ سرشار

فسانہ آزاد  

فسانہ آزاد کا پلاٹ گرچہ ڈھیلا ڈھالا اور طویل ضرور ہے لیکن اس میں قدیم داستانوں کی طرح غیر فطری عناصر نہیں بلکہ روز مرہ کے واقعات اور لکھنؤ کی رنگا رنگ دنیا دیکھنے کو ملتی ہے۔ ناول کا پلاٹ عشق محبت کا ایک معمولی قصہ ہے لیکن طنز و ظرافت کا یہ بہترین نمونہ ہے یہ سرشار کا پہلا ناول ہے جو فنّی اعتبار سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ناول کا مرکزی کردار آزاد نئی روشنی کا مبہم اور مثالی کردار ہے۔ آزاد کو حسن آرا سے عشق ہو جاتا ہے وہ اسے شادی کا پیغام بھیجتا ہے۔حسن آرا کے شرط اور اشاروں پر جنگ روس اور روم میں شامل ہو تا ہے اور فتح یاب ہو کر لوٹتا ہے تو اس کی شادی حسن آرا سے ہو جاتی ہے۔ آزاد اور حسن آرا کے قصے کا خاتمہ شادی پر ہوتا ہے۔
ناول کا دوسرا قصہ حسن آرا کی بہن سہر آرا اور ہمایوں فر کے عشق کی داستان ہے۔ جس میں شادی میں ہمایوں فرکا قتل ہو جاتا ہے اور سحر آرا کی شادی دوسرے شخص سے ہوجاتی ہے اس بات کی خبر سہر آرا کو شادی کے بعد ہوتی ہے۔

ناول میں ایک قصہ خوجی کا بھی ہے جو آزاد کے ساتھ رہتا ہے۔خوجی کا کردار بہت دلچسپ ہے جسے سرشار نے بہت رنگ و روغن کے ساتھ پیش کیا ہے۔ یہ کردارلکھنؤ کی پرانی تہذیب کی یادگار ہے۔خوشامد، فریبی، چغل خوری، شیخی جیسی خوبیوں کا مالک ہے۔ قد کا بونا، دبلا پتلا اور کمزور ہے لیکن گمان یہ ہے کہ ساری عورتیں اس پر مرتی ہیں۔
ناول میں ایک قصہ نواب ذولفقار علی خان اور ان کی صف شکن نامی بٹیر کا ہے۔ نواب صاحب بٹیر بازی میں ماہر ہیں۔ ایک دن صف شکن بٹیر اڑ جاتی ہے تو نواب صاحب پریشان ہو جاتے ہیں اور اس کی تلاش کے لیے نکل پڑتے ہیں۔
اور اسی طرح نہ جانے کتنے چھوٹے بڑے قصے پورے ناول میں موجود ہیں۔انھیں میں ایک قصہ طوائف اللہ رکھی کا بھی ہے جو بعد میں ثریا بیگم ہو جاتی ہے۔

 

تعارف

قاضی عبدالستار

پروفیسر قاضی عبدالستار اردو کے مشہور افسانہ نگار اور تاریخی ناول نگار تھے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں پروفیسر اور اسی کے صدر شعبہ رہ چکے ہیں۔ انہیں پدم شری اعزاز اور غالب اکیڈمی اعزاز سے نوازا گیا، جس میں سابق الذکر اعزاز کے وہ اولین وصول کنندہ رہے تھے۔

:پیدائش

قاضی مچریتا گاؤں، سیتاپور ضلع، اتر پردیش میں 1933ء میں پیدا ہوئے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے 1954ء میں کے ایک ریسرچ اسکالر کے طور پر منسلک ہوئے اور بعد ازاں اسی کے شعبہ اردو کے تدریسی عملے کا حصہ بنے۔ وہ اس شعبے کے صدر شعبہ کے طور پر سبک دوش ہوئے۔ [1]

:نگارشات

قاضی نے اپنے تصنیفی سفر کا آغاز ایک افسانہ نگار کے طور پر کیا۔ ان کا ایک افسانہ پیتل کا گھر ادبی حلقوں میں بہت مشہور ہوا۔ ان کی ابتدائی نگارشات اودھ کے علاقے میں زمین داری کے زوال کے مرکوز رہیں۔ بعد کے دور میں وہ تاریخی ناول لکھنے لگے۔ ان کی مشہور نگارشات میں دارا شکوہ، خالد بن ولید اور غالب پر مبنی تحریریں کافی مشہور ہوئیں۔

:اعزازات

قاضی کو 1974ء میں پدم شری اعزاز حاصل ہوا۔ 1998ء میں وہ اولین غالب اکیڈمی اعزاز کے وصول کنندے بنے۔ ان کے علاوہ بھی وہ کئی قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے نوازے گئے۔ 

:انتقال

29 اکتوبر، 2018ء کو پروفیسر قاضی عبدالستار دہلی میں گزر گئے۔ انہیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قبرستان کے احاطے میں دفن کیا گیا تھا۔

——————————————————————————————

Source :– Wikipedia 

Mantu

سعادت حسن منٹو معلومات شخصیت پیدائش : 11 مئی ,...

Read More
DMCA.com Protection Status
error: Content is protected !!